پاکستان ہاؤس یا ذاتی مہمان خانہ؟ سفیر کے مہمانوں کی جانچ پڑتال کون کرتا ہے؟
متنازع ایوارڈز، مشکوک روابط اور پاکستان کی سفارتی ساکھ پر اٹھتے اہم سوالات
تحریر: عاصم صدیقی
واشنگٹن ڈی سی، امریکہ
ایک تلخ حقیقت
امریکہ میں پاکستانی سفیر کی سرکاری رہائش گاہ پاکستان ہاؤس کہلاتی ہے۔ یہ کسی سفیر کا ذاتی مہمان خانہ نہیں بلکہ پاکستان کے وقار، شناخت اور سفارتی نمائندگی کی علامت ہے۔ اس لیے یہاں آنے والے مہمانوں کے پس منظر اور سرگرمیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
حال ہی میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ کی ایک ایسی شخصیت کے ساتھ تصویر سامنے آئی جو بین الاقوامی کاروباری نیٹ ورکنگ، میگزین اور ایوارڈز کی تقریبات سے وابستہ ہے۔
متعلقہ ایوارڈ پلیٹ فارمز کے بارے میں یہ سوالات اٹھتے رہے ہیں کہ آیا اسپانسرشپ، میزوں کی فروخت اور مالی معاملات ایوارڈز کے انتخاب پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
جب میں نے متعلقہ تنظیم کی ویب سائٹ اور آن لائن سرگرمیوں کا جائزہ لیا تو ایوارڈز، تقریبات اور کاروباری روابط کی تشہیر نمایاں نظر آئی۔
میرا سوال ہے: اس تنظیم نے پاکستان کے لیے کون سی قابلِ ذکر خدمات انجام دی ہیں، اور اس کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کہاں موجود ہے؟
متنازع شخصیات کو ایوارڈ، پھر سفارتی حلقوں تک رسائی؟
تشویش اس وقت بڑھتی ہے جب کسی ایوارڈ دینے والی تنظیم کا تعلق ایسی شخصیات سے سامنے آئے جن پر پاکستان کی عسکری قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر، کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے کے الزامات ہوں۔
ان الزامات اور متعلقہ ایوارڈ کی تفصیلات کی تصدیق ضروری ہے، لیکن ایک اصولی سوال اپنی جگہ موجود ہے:
کیا ایسے ایوارڈز کے منتظمین کو مناسب جانچ پڑتال کے بغیر پاکستان کی سرکاری سفارتی رہائش گاہ میں مدعو کیا جانا چاہیے؟
کسی سفیر کے ساتھ تصویر غلط کام کا ثبوت نہیں، مگر جب ایسی تصاویر تشہیر کے لیے استعمال ہوں تو سرکاری سرپرستی کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔
میرا مسئلہ ایوارڈز نہیں، پاکستان کا وقار ہے
کون ایوارڈ دیتا ہے، کون لیتا ہے، کون دبئی یا امریکہ میں کاروبار کرتا ہے، یہ میرا مسئلہ نہیں۔
میرا سوال صرف سفیر رضوان سعید شیخ سے ہے: پاکستان ہاؤس میں مدعو کیے جانے والے افراد کی جانچ پڑتال کون کرتا ہے؟
کیا سفیر کا عملہ مہمانوں کے پیشہ ورانہ پس منظر، سرگرمیوں اور ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کا جائزہ لیتا ہے؟
اگر ایسا نظام موجود ہے تو اس کی وضاحت ہونی چاہیے، اور اگر نہیں تو اسے بہتر بنایا جانا چاہیے۔
دفترِ خارجہ سے تین سوال
پاکستان ہاؤس میں مہمانوں کو مدعو کرنے کا فیصلہ کون کرتا ہے؟
کیا دعوت نامے جاری کرنے سے پہلے متعلقہ افراد اور تنظیموں کا پس منظر جانچا جاتا ہے؟
کیا تجارتی تنظیموں کو پاکستانی سفارت کاروں کے ساتھ تصاویر اپنی کاروباری تشہیر کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہے؟
پاکستان کے دفترِ خارجہ کو ان سوالات کا واضح جواب دینا چاہیے۔
آخری بات
پاکستان ہاؤس کسی فرد کی ذاتی تشہیر یا کاروباری روابط بڑھانے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
سفیر رضوان سعید شیخ اور ان کی ٹیم کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کی سفارتی ساکھ، ادارہ جاتی شفافیت اور منصفانہ میڈیا رسائی کو یقینی بنائیں۔
امریکہ میں پاکستانی صحافیوں کو بھی اپنے کردار اور تنظیموں کا احتساب کرنا چاہیے۔ صحافت کا مقصد طاقتور شخصیات کے ساتھ تصاویر بنوانا یا ایوارڈز جمع کرنا نہیں بلکہ حقائق کی تحقیق اور عوام کو سچ بتانا ہے۔
پاکستان ہاؤس پاکستان کی شناخت ہے، کسی کی ذاتی جاگیر نہیں۔ اس کے دروازے ضرور کھلے رہیں، مگر قومی وقار، شفافیت اور ذمہ داری کے اصولوں کے ساتھ۔
